قومی بیداری کا وقت (ایک ویک اپ کال)

(تحریر: آئی اے کشمیری)
پاکستان گزشتہ دس برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا میدانِ جنگ بنا رہا ہے، جس کے گہرے اثرات ملک کے عوام، ریاست، معاشرے اور معیشت پر مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کی اتنی بڑی تعداد، جس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی، اس خطرے کی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کا سامنا پاکستان کو ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردوں کے خلاف کئی کامیاب آپریشنز کیے ہیں؛ جن میں سب سے حالیہ آپریشن ضربِ عضب ہے جس نے کامیابی کے ساتھ عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اپنی ناکامیوں سے بوکھلا کر، دہشت گردوں نے معصوم اسکول جانے والے بچوں پر حملے جیسی بزدلانہ حرکتوں کا سہارا لیا ہے۔ پشاور میں 131 معصوم اسکول کے بچوں کی المناک شہادت پر پورا پاکستان صدمے میں ہے۔ ہر معیار کے مطابق، یہ ایک ایسا بربرانہ فعل ہے جس کا ارتکاب کرنے کا کوئی بھی انسان تصور نہیں کر سکتا۔ ٹی ٹی پی کے ترجمان عمر خالد خراسانی نے ڈھٹائی کے ساتھ اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔
اس واقعے پر دنیا بھر سے شدید مذمت کی گئی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسے “ہولناک اور انتہائی بزدلانہ فعل” قرار دیا جبکہ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ “دشت گردوں نے ایک بار پھر اپنی پست فطرت کا ثبوت دے دیا ہے۔” ایک غیر متوقع ردعمل میں، افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ پشاور حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ بچوں کے اس بہیمانہ قتل عام میں ملوث گروہ سے قطع نظر، اب وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان زیرو ٹالیرنس کی پالیسی کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر بھرپور جوابی وار کرے۔ غم کی اس گھڑی میں معاشرے کے تمام طبقات بشمول سیاسی قیادت، مختلف مکاتبِ فکر، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ ہمارے وطن سے دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ دہشت گردی کے اس خطرے سے سیاسی مصلحتوں کے ذریعے نہیں بلکہ واضح، غیر متزلزل اور فیصلہ کن پالیسیوں سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔
یہ بات یاد رکھینی چاہیے کہ کمزور رویے اور طرزِ عمل نہ صرف ہمارے عزم اور پختگی کو کمزور کریں گے بلکہ عسکریت پسندوں کو اپنی سرگرمیاں پھیلانے کا حوصلہ دیں گے جس سے جانی و مالی نقصان مزید بڑھ جائے گا۔ اس لیے یہ ناگزیر ہے کہ انتشار، غیر فیصلہ کن پن، مصلحت پسندی اور لاپرواہی کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ سیاسی قیادت سے یہ تقاضا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر انتہا پسندی سمیت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد پیدا کریں۔ مذہبی حلقوں اور گروہوں کو انتہا پسندی اور عدم برداشت کے اس ناسور کے نتائج کا ادراک کرنا چاہیے۔ پختہ روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ایسی سرگرمیوں کی مخالفت کرنی چاہیے جو عدم برداشت کے رجحانات کو ہوا دیتی ہیں۔ ایک محرک کے طور پر، ملک میں ایک پرامن ماحول پیدا کرنے میں میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سلسلے میں کاروباری مفادات، باہمی اختلافات اور ریٹنگ کو پسِ پشت ڈال کر، انہیں درندوں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف جوابی کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دینا چاہیے۔ عدالتی نظام کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کیا جائے اور قوم کا اعتماد بحال کیا جائے۔ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے غیر لچکدار اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی پالیسی ہی واحد دستیاب طریقہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پشاور کا واقعہ پوری قوم کے لیے بیداری کی آخری گھنٹی ہے۔ اب ریاست کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کی بربرایت کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے تمام عناصر کے خلاف “کوئی رعایت نہیں” (No Mercy) کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

مزید خبریں