وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت ایوی ایشن کمپنی بورڈ اجلاس، فضائی رابطوں کے فروغ پر زور

کوئٹہ:() وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا تیسرا اجلاس جمعرات کو کوئٹہ میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ڈائریکٹر ایوی ایشن کیپٹن علی آزاد اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے امور، کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق مختلف معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران صوبے میں فضائی رابطوں کے فروغ، ایوی ایشن کے شعبے میں دستیاب مواقع سے استفادہ اور بلوچستان کے عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں فضائی رابطوں کا فروغ صوبے کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسیع رقبے اور دور دراز علاقوں کے پیش نظر بہتر فضائی سہولیات نہ صرف عوام کو آسان سفری مواقع فراہم کریں گی بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔
وزیراعلیٰ نے بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے معاملات میں پیشہ ورانہ طرزِ انتظام، شفافیت اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے صوبے کے وسیع تر مفاد میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں میں جدید اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوی ایشن کا شعبہ بھی حکومت کے وژن کا ایک اہم حصہ ہے، جسے مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے۔
اجلاس میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کی کارکردگی مزید بہتر بنانے، دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کمپنی کے امور کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے اور بلوچستان میں فضائی رابطوں کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز اور مؤثر منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے۔
اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین نے کمپنی کے مختلف امور سے متعلق اپنی تجاویز بھی پیش کیں اور اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔





