بلوچستان پورے پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

کوئٹہ (عوام ویب ڈیسک) گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے لیے زیادہ موزوں خطہ ہے، زراعت اور مالداری یہاں کے عوام کے اہم معاشی ذرائع ہیں اور بلوچستان پورے پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔گورنر بلوچستان نے یہ بات ورلڈ فوڈ ڈے کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے زیر اہتمام منعقدہ پہلی بلوچستان فوڈ نمائش 2026 کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایف اے او کے سب آفس کے ہیڈ ولید مہدی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، زرعی کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شہنشاہ خان سمیت ماہرین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔گورنر نے کہا کہ پاکستان خاص کر بلوچستان کے میوہ جات اور غذائی مصنوعات معیار اور ذائقے کے اعتبار سے انٹرنیشنل سطح پر پسند کیے جاتے ہیں۔ صرف ژوب ڈویژن سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ حجاج کرام کے لیے قربانی کے جانوروں کی ضرورت پورا کر سکتا ہے۔ لورالائی کے زیتون کا انٹرنیشنل سطح پر ایک اعلیٰ مقام ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر اور مکران کی طویل ساحلی پٹی ماہی گیری اور سمندری خوراک کی پراسیسنگ کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ زراعت بھی بلوچستان کی معیشت کا اہم شعبہ ہے، ہمارا صوبہ اعلیٰ معیار کے زیتون، سیب، انگور، چیری، انار اور کھجور کے لیے مشہور ہے۔ کولڈ اسٹوریج، جدید پیکیجنگ اور فوڈ پراسیسنگ کو فروغ دے کر فصلوں کے ضیاع کو کم اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔گورنر نے کہا کہ یہ نمائش محض زرعی مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ کاشتکاروں، محققین، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا موثر پلیٹ فارم ہے۔ آخر میں گورنر نے نمائش میں لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ بھی کیا۔