وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کے کیس کا ریکارڈ طلب کرلیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک): قیدیوں کو نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت کیس کا ریکارڈ طلب کرلیا۔
عدالت میں اختیارِ سماعت پر بحث
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تین قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت عمران خان کے کیس کا ریکارڈ بھی طلب کیا جائے۔
اٹارنی جنرل کے مطابق آئین کے آرٹیکل 175E کی ذیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح سے متعلق سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ آئین اور قانون کا اطلاق امیر اور غریب دونوں پر یکساں ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی سوالات
جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں اس معاملے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیے بغیر حکم دے دیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا معاملہ پہلے طے نہیں کرنا چاہیے تھا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
دیگر عدالتوں کا ریکارڈ بھی طلب
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا کیس فوجداری نوعیت کا ہے، جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف معاملہ آیا ہے اور سپریم کورٹ کا حکم ابھی عبوری ہے۔
عدالت نے عمران خان کی شفا اسپتال منتقلی سے متعلق ریکارڈ کے علاوہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں اسی نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔





