کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملہ، 23 شہید، 8 دہشتگرد ہلاک

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملہ، 22 گھنٹے بعد آپریشن مکمل، 23 شہید
خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے اور اس کے بعد دہشتگرد حملے کے خلاف کلیئرنس آپریشن تقریباً 22 گھنٹوں بعد مکمل کرلیا گیا۔ سینٹرل پولیس آفس کے مطابق کارروائی کے دوران تمام 8 دہشتگرد مارے گئے جبکہ واقعے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 23 ہوگئی۔
پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق ایلیٹ فورس کمانڈوز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ اور سکیورٹی فورسز نے آپریشن میں حصہ لیا اور پولیس لائنز کی اہم عمارات کو کلیئر کیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید خود جائے وقوع پر موجود رہے جبکہ جی او سی کوہاٹ بھی آپریشن کے دوران موجود تھے۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور ڈی پی او کوہاٹ نے کارروائی کی قیادت کی۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی زخمی
سی ٹی ڈی کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پر گرینیڈ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کا ہاتھ زخمی ہوا۔ بیان کے مطابق وہ گزشتہ روز دوپہر سے جاری آپریشن میں فرنٹ لائن پر موجود رہے۔
23 افراد شہید، 103 زخمی
ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے اور حملے میں پہلے 21 افراد کے شہید ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے۔ بعد میں شہداء کی تعداد 23 ہوگئی۔
شہری شہداء میں ڈاکٹر اسرار خان اورکزئی بھی شامل تھے جو چیف ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ (پیڈیاٹرکس) تھے۔ واقعے میں 103 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل تھے۔
زخمیوں کو لیاقت میموریل اسپتال اور ڈی ایچ کیو اسپتال کوہاٹ منتقل کیا گیا، جبکہ بعض شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے پشاور منتقل کیا گیا۔
آئی جی کا جوانوں کو خراج تحسین
آئی جی خیبرپختونخوا نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکاروں کو شاباش دی اور ان کے لیے انعامات کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق آپریشن مکمل ہونے کے بعد پولیس لائنز کی اہم عمارات کلیئر کردی گئی ہیں اور صورتحال کی نگرانی جاری ہے





