وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کوہاٹ دورہ، دہشت گردی میں اضافے کی وجہ ناکام خارجہ پالیسی قرار

کوہاٹ(عوام ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ناکام خارجہ پالیسی ہے، جبکہ بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کی پالیسی دیرپا امن کے قیام میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کوہاٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسپتال جاکر کوہاٹ پولیس لائنز کے دہشت گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی کے شہدا کے اہلخانہ سے بھی ملاقات کی اور ان سے اظہار تعزیت کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے 2004 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے باعث صوبے میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ قبائلی اضلاع کے معاشی حالات بھی متاثر ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حکومت کے دوران خیبرپختونخوا میں امن دیکھا گیا، تاہم موجودہ دور میں صوبے میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور مزید بڑھتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں اضافے کی ایک وجہ ناکام خارجہ پالیسی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں بیٹھ کر کیے جانے والے فیصلے کارآمد اور مؤثر ثابت نہیں ہو رہے اور موجودہ پالیسی دیرپا امن کے لیے مؤثر نہیں ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی جماعت کی پالیسی صرف پاکستان تحریک انصاف کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ خیبرپختونخوا اور پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ ان کے مطابق اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان کی پالیسی پر عمل کون کرے گا۔
وزیراعلیٰ نے سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کچھ لوگ پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایک صوبے کا وزیراعلیٰ دوسرے صوبے کا دورہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو دوسرے صوبے میں احتجاج سے روکا جاتا ہے جبکہ ان کے بقول وفاقی ادارے بھی پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ بھارت سے خطرہ نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت سے خطرہ نہیں تو تین صوبوں سے خطرہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کے عوام اور پولیس کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی ان کے ساتھ رہیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کی مسجد کے قریب خودکش دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 16 پولیس اہلکاروں سمیت 22 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے میں کارروائیاں بھی کیں۔