سندھ کے 5 اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

سندھ میں پولیو وائرس کی موجودگی، کراچی کے چار اضلاع اور حیدرآباد سے مثبت نمونے

سندھ میں ماحولیاتی نگرانی کے دوران کراچی کے چار اضلاع اور حیدرآباد سے پولیو وائرس کے مثبت نمونے سامنے آئے ہیں۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر سندھ کی اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق صوبے کے پانچ اضلاع میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

کراچی اور حیدرآباد سے مثبت نمونے

رپورٹ کے مطابق کراچی کے اضلاع غربی، کورنگی، وسطی اور جنوبی سے ایک، ایک مثبت ماحولیاتی نمونہ رپورٹ ہوا، جبکہ حیدرآباد سے دو مثبت نمونے سامنے آئے۔

حکام کے مطابق 2025 کے مقابلے میں سندھ میں ماحولیاتی نگرانی کے دوران پولیو وائرس کی موجودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگست 2026 میں وائرس کی موجودگی پہلے کے مقابلے میں محدود اضلاع تک رہی۔

بیشتر اضلاع میں وائرس نہیں ملا

رپورٹ کے مطابق کراچی شرقی، کیماڑی، ملیر، گھوٹکی، سکھر، جیکب آباد، قمبر، لاڑکانہ، کشمور، دادو، بدین، جامشورو، سجاول، میرپورخاص، سانگھڑ اور بینظیرآباد سمیت متعدد اضلاع کے حالیہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس نہیں پایا گیا۔

تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی ماحولیاتی نمونے کا منفی آنا اس بات کی حتمی تصدیق نہیں کہ کسی علاقے میں وائرس کی منتقلی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اسی لیے ایسے اضلاع کو حالیہ وائرس کی عدم موجودگی والے علاقے قرار دیا جاتا ہے۔

25 لاکھ بچوں کی پولیو مہم جاری

دوسری جانب سندھ بھر میں پانچ سال سے کم عمر 25 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم شروع کردی گئی ہے، جو 27 ستمبر تک جاری رہے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔ سندھ حکومت کے مطابق مہم میں 80 ہزار سے زائد پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں اور صوبے کے تمام 30 اضلاع میں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔

حکام کے مطابق ٹیمیں ایک ہزار 490 یونین کونسلز میں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ مہم 23 مکمل اور 7 جزوی اضلاع میں چلائی جا رہی ہے۔

مراد علی شاہ نے والدین سے پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 2027 کے اختتام تک سندھ سے پولیو وائرس کی منتقلی روکنا قابلِ حصول ہدف ہے