طلال چوہدری کے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 پر شدید تحفظات

طلال چوہدری کا مجوزہ پولیس ایکٹ پر ردعمل
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے انتظامی معاملات چلاتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ پولیس سروس آف پاکستان کے رولز میں آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والی پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر میں ایسی تبدیلیاں نہیں ہونی چاہئیں جو اس نظام کو متاثر کریں۔
آئی جی کی تعیناتی پر اعتراض
خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی تھی۔ مسودے میں آئی جی پولیس کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ اس کے تحت وفاقی حکومت تین افسران پر مشتمل پینل صوبائی حکومت کو بھیجے گی، جس میں سے صوبائی حکومت ایک افسر کا انتخاب یا پورا پینل مسترد کرسکے گی۔
طلال چوہدری نے اس تجویز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈی ایس پی سے آئی جی تک تعیناتیوں کے اختیارات وزیراعلیٰ کے پاس رکھنے سے پولیس کے کمانڈ نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔
آر پی او اور ڈی پی او تعیناتیوں کا معاملہ
مجوزہ قانون میں ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے اختیارات میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق ان معاملات میں وزیراعلیٰ اور محکمہ داخلہ کے کردار میں اضافہ ہوگا۔ پولیس کے مالی معاملات سے متعلق اختیارات میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔
طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے تناظر میں پولیس کے انفرااسٹرکچر اور سیف سٹی پشاور کے انتظام سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مؤثر رکھنے کے لیے کمانڈ اور انتظامی نظام کا تسلسل ضروری ہے
مجوزہ ایکٹ اب صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کے مرحلے سے گزرے گا، جس کے بعد اس کی حتمی قانونی حیثیت واضح ہوگی





