فیصل کریم کنڈی کا گورنر راج پر اہم بیان، پی ٹی آئی لانگ مارچ پر بھی بات

گورنر راج پر مشاورت کا انکشاف

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے معاملے پر مشاورت ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تیاری اس انداز میں نہیں ہو رہی جیسا پارٹی کی جانب سے بیان کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض افراد خود گرفتاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

لانگ مارچ اور صوبائی صورتحال

گورنر خیبرپختونخوا نے سوال اٹھایا کہ اگر صوبائی حکومت کے ارکان اور کارکن اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے تو صوبے کے انتظامی معاملات کون دیکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج آئینی طریقہ کار کے تحت نافذ کیا جاسکتا ہے۔ حالیہ رپورٹنگ کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل کے حالات کے بارے میں حتمی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے احتجاج کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے اسے پرامن رکھنے کی بات کی ہے۔

پولیس ایکٹ پر بھی اعتراضات

فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے مجوزہ قانون پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون ان کے پاس منظوری کے لیے آیا تو وہ موجودہ شکل میں اسے منظور نہیں کریں گے۔

صوبائی کابینہ نے 23 ستمبر کو پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی تھی۔ مجوزہ قانون میں پولیس کے انتظامی، مالی اور آپریشنل معاملات میں صوبائی حکومت کے کردار کو بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔

گورنر نے پولیس کی تعیناتیوں اور کمانڈ اسٹرکچر میں مجوزہ تبدیلیوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی مجوزہ قانون پر اعتراضات کا اظہار کرچکے ہیں اور ان کے مطابق مجوزہ تبدیلیاں پولیس کے کمانڈ ڈھانچے کو متاثر کرسکتی ہیں