توہین عدالت اور نظرثانی سے متعلق آئینی عدالت کے نئے رولز جاری

اسلام آباد(عوام ویب ڈیسک): آئینی عدالت کے نئے رولز جاری کر دیے گئے ہیں۔رولز کے مطابق کسی بھی شخص کی درخواست پر توہینِ عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے اور عدالت توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس بھی لے سکتی ہے۔رولز میں کہا گیا ہے کہ بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست پر وکیل کے خلاف کارروائی ہو سکے گی۔ نظرثانی درخواست دائر کرنے سے قبل 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوگا، درخواست خارج یا بے بنیاد قرار دی گئی تو زرِ ضمانت ضبط ہو سکتا ہے۔آئینی عدالت کے رولز کے مطابق نظرثانی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر ہوگی لیکن اگر اصل بینچ کا جج دستیاب نہ ہو تو اسی بینچ کے ججز پر مشتمل بینچ کے سامنے سماعت ہوگی۔رولز میں مزید کہا گیا ہے کہ نظرثانی کے حکم کے خلاف مزید نظرثانی درخواست دائر نہیں ہو سکے گی جب کہ ایسی بعد کی نظرثانی درخواست رجسٹری میں بھی قبول نہیں ہوگی۔