بلوچستان میں پہلی بار سرکاری افسر پر 20 ہزار جرمانہ عائد

کوئٹہ(عوام ویب ڈیسک بلوچستان میں شہری کو حقِ معلومات کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے پر پہلی بار ایک سرکاری افسر کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے۔بلوچستان انفارمیشن کمیشن نے شہری کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کے چیف انجینئر نارتھ پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق شہری نے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے تحت چیف انجینئر نارتھ سے کچھ سرکاری منصوبوں سے متعلق معلومات مانگی تھیں۔قانون کے مطابق متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر 30 دن کے اندر معلومات فراہم کرنے کا پابند ہے، لیکن چیف انجینئر نارتھ نے بار بار نوٹس جاری ہونے کے باوجود معلومات فراہم نہیں کیں۔بلوچستان انفارمیشن کمیشن نے متعدد بار شوکاز نوٹس اور آخری وارننگ جاری کی، مگر جواب نہ ملنے پر کمیشن نے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جو قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ جرمانہ ہے۔ faolex.fao.orgکمیشن نے چیف انجینئر نارتھ کو ہدایت کی ہے کہ شہری کو مطلوبہ معلومات فوری طور پر فراہم کی جائیں اور جرمانے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی جائے۔یہ بلوچستان میں آر ٹی آئی قانون کے نفاذ کے بعد معلومات فراہم نہ کرنے پر کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف جرمانے کی پہلی کارروائی ہے، جسے شفافیت اور احتساب کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے








