وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے 7 نکات آئینی و قانونی، گورنر کا اجلاس آئین پر حملہ قرار

پشاور (عوام ویب ڈیسک) – وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جو 7 نکات ڈرافٹ میں دیے ہیں وہ سب آئینی اور قانونی ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم پر امن احتجاج کریں، جو آئین کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم آئین کے دائرے میں رہ کر جواب دیں گے۔ ایسی پالیسی جس سے صوبے کو نقصان ہو اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی کامیاب ہے، ن لیگ کی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ بھارت سے نہیں تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ ہم پر امن لوگ ہیں، 126 دن کا دھرنا دیا ایک گملا بھی نہیں توڑا، میں خیبر سے کراچی تک گیا، اسٹریٹ موومنٹ کی، ایک گملا بھی نہیں توڑا۔ ہم پر تشدد کیا گیا جہاں پر قیام کیا وہاں کی بجلی کاٹی گئی۔
*گورنر کا اجلاس آئین پر حملہ قرار*
اس سے قبل صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر فیصل کریم کنڈی کا گزشتہ روز کا اجلاس آئین اور جمہوریت پر حملہ قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال ہیں، گورنر کے پی چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر غیر آئینی اجلاس کر رہے ہیں۔ اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے، وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ عدم اعتماد ہے۔





