اسٹاف لیول معاہدہ طے، پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 21 کروڑ ڈالر ملیں گے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے، 1.21 ارب ڈالر کی نئی قسط ملے گیاسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کو 1.21 ارب ڈالر کی نئی قسط ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ معاہدہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) یعنی موسمیاتی تبدیلی پروگرام کے تیسرے جائزے پر طے پایا ہے۔اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ منظوری کے بعد پاکستان کو یہ رقم فراہم کرے گا۔ اس میں EFF کی 5 ویں قسط کے تحت 1 ارب ڈالر اور RSF کی چوتھی قسط کے تحت 21 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔مجموعی طور پر 5.07 ارب ڈالر مل چکے ہوں گےنئی قسط کے اجراء کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو موصول ہونے والی مجموعی رقم تقریباً 5 ارب 7 کروڑ ڈالر ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ 7 ارب ڈالر کا EFF پروگرام آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ستمبر 2024 میں 37 ماہ کے لیے منظور کیا تھا، جبکہ 1.4 ارب ڈالر کا RSF پروگرام مارچ 2025 میں منظور کیا گیا تھا۔آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے معاشی اہداف کے حصول کے لیے بہترین کوششیں کی ہیں، جس سے ملک میں معاشی استحکام آیا ہے اور اصلاحات کا عمل تیز تر ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال جولائی تا مارچ 2026 کے دوران معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد رہی، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول میں رہا۔آئی ایم ایف کے مطالباتمانیٹری فنڈ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم کی پٹرول سبسڈی اسکیم کو مرحلہ وار ختم کیا جائے اور اسے صرف مستحقین تک محدود رکھا جائے۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، واجبات کی وصولی بہتر بنانے اور گیس سیکٹر کے نقصانات میں کمی کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں۔یاد رہے کہ پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط رکھنے اور قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے بیرونی فنانسنگ پر انحصار کرتا ہے، اور اس معاہدے سے پاکستان کی معاشی مشکلات میں خاطر خواہ کمی کی توقع ہے۔ حتمی رقم ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد نومبر کے آخر یا دسمبر کے شروع میں جاری ہونے کا امکان ہے۔