نوجوان تشدد نہیں ترقی کا راستہ اپنائیں، حکومت تعاون کریگی وزیراعلیٰ بلوچستان

نوجوان تشدد کے بجائے ترقی کا راستہ اختیار کریں، حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیکوئٹہ، 8 اکتوبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان موجود خلیج کو تعلیم، ہنرمندی، روزگار، میرٹ اور بامعنی مکالمے کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد صرف سرٹیفکیٹ دینا نہیں بلکہ نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں محکمہ صنعت و تجارت اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے زیر اہتمام ریزیلینس، انٹیگریشن اینڈ سوشیو اکنامک ایمپاورمنٹ پروگرام کے تحت ضلع کیچ، گوادر، پنجگور اور خاران کے تربیت یافتہ گریجویٹس میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ نے تقریب میں تربیت مکمل کرنے والی خواتین میں خود اسناد تقسیم کیں۔ تقریب میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، بی آر ایس پی کے سی ای او طاہر رشید اور دیگر حکام موجود تھے۔ریاست اور نوجوانوں میں پل کا کردار
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سنبھالتے ہی سب سے بڑا چیلنج حکومت اور نوجوانوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ اصل چیلنج تشدد نہیں بلکہ نوجوانوں کو ریاست پاکستان کے ساتھ دوبارہ جوڑنا ہے۔ اسی لیے حکومت نے بی آر ایس پی کو ساتھ شامل کیا تاکہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان پل کا کردار ادا ہو اور شفافیت یقینی بنے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام صرف تربیت تک محدود نہیں، بی آر ایس پی حکومت کے تعاون سے نوجوانوں کی مسلسل رہنمائی کرے گا، انہیں کاروبار کے لیے تیار کیا جائے گا اور حکومت کئی سال تک معاونت جاری رکھے گی۔زمباد اور اسمگلنگ مستقبل نہیں
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے سرحدی اضلاع سے روزگار پروگرام کا آغاز اس سوچ کے تحت کیا کہ نوجوانوں کو غیر قانونی معیشت کے بجائے قانونی روزگار دیا جائے۔ زمباد اور اسمگلنگ نوجوانوں کا مستقبل نہیں ہوسکتے۔ حکومت تربیت، سازگار ماحول، مالی معاونت اور بلا سود قرضوں پر مشتمل جامع پیکیج دے رہی ہے۔خواتین اولین ترجیح
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی بچیوں کو تشدد کی طرف لے جانا، خودکش جیکٹس پہنانا نہ ہماری روایات ہیں نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ خواتین ان کی اولین ترجیح ہیں۔ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں خواتین کی معاشی شمولیت نے معیشت کو ترقی دی۔ جب بلوچستان کی خواتین آگے بڑھیں گی تو وہ اپنے بھائیوں اور بچوں کو بھی ترقی کی طرف لے جائیں گی۔میرٹ، کرپشن کے خلاف مہم اور ترقیاتی منصوبے
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 15 ہزار سے زائد اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے گئے ہیں۔ کرپشن کے خلاف مہم بھرپور جاری ہے۔ جناح پیپلز ٹرین میں 50 روپے میں جدید سفری سہولت دی گئی ہے، عوام اس کی حفاظت کریں۔ پنک بس اور گرین بس سروس کو تربت سمیت دیگر اضلاع تک بڑھایا جا رہا ہے۔نوجوانوں کے لیے اربوں کے فنڈز
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ رواں سال نوجوانوں کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اگر بی آر ایس پی اور اخوت پاکستان اسے مؤثر انداز میں استعمال کریں تو مزید 3 ارب، پھر 9 ارب اور 11 ارب تک بڑھایا جائے گا۔تشدد چھوڑنے والوں کے لیے دروازے کھلے ہیں
نوجوانوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جو نوجوان تشدد کے راستے پر ہیں ان کے لیے بھی ریاست کے دروازے کھلے ہیں۔ تشدد چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کو تعلیم، روزگار اور بیرون ملک ہارورڈ، آکسفورڈ سمیت اعلیٰ تعلیم کے مواقع دیے جائیں گے۔ نوجوان پروپیگنڈے کے بجائے ترقی کا راستہ چنیں۔