بلوچستان میں نوکریوں کی خرید و فروخت کا سخت نوٹس، افسران سے حلف لے لیا گیا

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں اب کوئی نوکری فروخت نہیں ہوگی اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی یا غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام سیکرٹریز سے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر حلف لیا کہ وہ بلوچستان کے نوجوانوں کی نوکریاں فروخت نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ نوکریوں کی خرید و فروخت ثابت ہونے پر نہ کوئی وزیر بچے گا اور نہ ہی کوئی سیکرٹری۔
اہم نکات:
زیرو ٹالرینس پالیسی: محکمہ جنگلات کی بھرتیوں میں بے ضابطگی کی شکایات پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، اور ملوث کرداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
میرٹ کا فروغ: میرٹ پر عمل درآمد کرکے ہی نوجوانوں کا ریاست پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ سردی اور گرمی میں محنت کرنے والے نوجوانوں کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
افسران کو ہدایات: ماتحت اہلکاروں اور ریکروٹمنٹ کمیٹیوں پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ کسی بھی سطح پر بے ضابطگی کو روکا جا سکے اور تمام احکامات پر من و ان عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
کابینہ کا عزم: کابینہ ارکان اور چیف سیکرٹری بلوچستان اس اصولی موقف پر ایک ہی پیج پر ہیں کہ نوکریوں کی خرید و فروخت کو ہر صورت روکا جائے گا۔

بلوچستان کے نوجوانوں کی نوکریاں فروخت ہونے دینا کسی صورت قابل قبول نہیں، اس معاملے پر ہر طرح کا دباؤ برداشت کیا جائے گا مگر نوجوانوں کے حقوق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔”
— میر سرفراز بگٹی (وزیراعلیٰ بلوچستان)