پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات مختلف شعبوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مالدیپ کے طلبہ کی بڑی تعداد پاکستانی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہے، جبکہ پاکستانی ڈاکٹرز اور معاون طبی عملہ مالدیپ میں انسانیت کی خدمت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ملک کی حیثیت سے مالدیپ کی مزید ضروریات کو پورا کر کے ہمیں خوشی ہوگی۔وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ مسئلہ فلسطین کی مکمل حمایت کرتا ہے اور پاکستان بھی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے لیے اپنے اصولی موقف کی حمایت جاری رکھے گا۔سندھ طاس معاہدے پر بھارتی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا بھارتی فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عملدرآمد تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے اور پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی۔اس موقع پر مالدیپ کے صدر ڈاکٹر معیزو نے بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔