بلوچستان اسمبلی، سرداری نظام، جماعت اسلامی بلوچستان، اپوزیشن مولانا ہدایت الرحمن

کوئٹہ: جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن کی پریس کانفرنس، سرداری نظام کے خلاف قرارداد دوبارہ جمعکوئٹہ (نمائندہ خصوصی) جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بلوچستان اسمبلی کی اڑھائی سالہ کارکردگی بتانے آیا ہوں، میں نے پی ایس ڈی پی کو پاؤں کی زنجیر نہیں بنایا اور عوام کی نمائندگی کی بھرپور کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی عوام مر رہے ہیں، اس عرصے میں اپوزیشن کو کچھ نظر نہیں آیا، یہ فرینڈلی نہیں بلکہ کوئی اور اپوزیشن ہے، اپوزیشن والے بھی وزراء کی طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ یہ سندیمن کے منتخب کردہ سردار اور نواب ہیں، ان کو ماہانہ تنخواہ ملتی تھی، 1885 کے معاہدے ہوئے ہیں، یہ انگریزوں کی بگھی کھینچتے تھے اور 500 روپے تنخواہ لیتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کو قرارداد مسترد کرنے کا اختیار نہیں ہے، پورے پاکستان میں اس نظام کو ختم کیا گیا ہے، مراعات نہیں لے سکتے، پہلے سے قانون موجود ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے، جب ایکٹ بھی نہیں ہے تو سردار اور نواب کے القاب ختم ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ تکلیف اسمبلی میں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی کو نہیں جمعیت علماء اسلام والوں کو زیادہ تھی، اسپیکر اجازت دے رہا ہے مگر اپوزیشن لیڈر نہیں دے رہا، ڈاکٹر مالک نے بھی واک آؤٹ کیا۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ یہ تکلیف مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے موقع پر محسوس نہیں ہوئی جتنی کل ہوئی، دہشت گردی کے خلاف قرارداد پر انہیں تکلیف ہوئی تھی، خضدار، نوشکی اور تربت میں جے یو آئی کے کارکنوں پر انہیں تکلیف نہیں ہوئی مگر اپوزیشن کو بہت تکلیف ہوئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن لیڈر کل مجھ پر حملہ کرنے آ رہا تھا، میں چوک والا ایم پی اے نہیں، جمعیت والے چوک والے ایم پی اے ہیں، میں نے اسمبلی میں دوبارہ سرداری نظام کے خلاف قرارداد جمع کرا دی ہے، مجھے اسمبلی میں بات کرنے نہیں دی، یہ کونسی جمہوریت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں قبائلی سرداری نظام کے خلاف نہیں بلکہ سندیمن سرداری نظام کے خلاف ہوں، جمعیت علماء اسلام کے اراکین اسمبلی کو مزید تکلیف پہنچائیں گے۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی سردار یا نواب غریب کے ساتھ ظلم کرے گا تو میں گرافکس کے ساتھ ثبوت دوں گا، ایک سیل بنایا جائے گا جہاں مظلوم کی ہر سطح پر داد رسی کروں گا، نواب ثناء نے سکول بنانے پر 3 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا۔انہوں نے کہا کہ نواب یوسف مگسی اور دیگر سرداری نظام کے خلاف تھے، ہم کسی سے خوف زدہ نہیں ہوں گے، جمعیت علماء اپنے اراکین اسمبلی کے کردار پر غور کرے، ان کو تربیت کی ضرورت ہے، بلوچستان میں سرداری اور نوابی نظام اسٹیبلشمنٹ کے بل بوتے پر زندہ ہے، اگر ان کی سیکورٹی واپس لے لی جائے تو یہ اپنے گھر میں بھی نہیں رہ سکیں گے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ سرداری نظام ویسے ہی دم توڑ چکا ہے، سرداری نظام سے پہلے قبائلی نظام تھا، سندیمن کے بعد سردار حاکم بنے اور سندیمن کے بعد نواب یوسف مگسی نے بغاوت کی تھی۔