بلوچستان پولیس میں میرٹ اور سیاسی مداخلت ختم، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

اسلام آباد(عوام ویب ڈیسک )وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس کو جدید آلات، معیاری تربیت اور میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیوں و تبادلوں کا ایسا ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جہاں کسی قسم کی سیاسی مداخلت یا دباؤ کی گنجائش نہ ہو۔نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں بلوچستان پولیس میں نئے تعینات ہونے والے ڈی ایس پیز کی تربیت مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کی تعیناتیوں میں میرٹ کو بنیادی اصول بنایا گیا ہے اور یہ فیصلہ پولیس قیادت نے کرنا ہے کہ کون سا افسر کس ذمہ داری کے لیے موزوں ہے۔ میرٹ کی بالادستی نوجوان نسل کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میرٹ اور پیشہ ورانہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس خود کو عوام سے بالاتر سمجھے، پولیس افسران ریاست اور عوام کے خادم ہیں۔ انہیں دیانت داری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ عوام کی خدمت کرنا ہوگی۔ آج بلوچستان کو مکمل طور پر اے ایریا قرار دیا جا چکا ہے جو بڑی ذمہ داری بھی ہے اور موقع بھی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری منظم جرائم کا خاتمہ ہے، تاہم دہشت گردی بھی بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گردوں کے چھوٹے گروہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن بلوچستان حکومت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری ریاست کی جنگ ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس اس جنگ میں اگلے محاذ پر کھڑی ہوگی۔ ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے دروازے کھلے ہیں، تاہم بندوق کے زور پر نظریات مسلط نہیں کرنے دیں گے۔ طاقت کے استعمال کا جائز اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا کہ بلوچستان پولیس کو بہترین اکیڈمی میں تربیت دی گئی۔ تقریب میں آئی جی بلوچستان محمد طاہر خان، کمانڈنٹ اکیڈمی سعد بھروانہ اور دیگر افسران موجود تھے۔تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے ڈی ایس پیز میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے، بہترین پروبیشنر مس قرۃ العین کو اعزازی تلوار (سورڈ آف آنر) سے نوازا گیا۔