دفتر خارجہ: بھارتی بحری جہاز کی جارحانہ نقل و حرکت پر احتجاج

بھارتی بحری جہاز کی نقل و حرکت پر پاکستان کا احتجاج، خطے میں کشیدگی کا خدشہ
پاکستان نے بھارتی بحری جہاز کی جانب سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں مبینہ جارحانہ نقل و حرکت پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر نے کہا کہ بھارتی بحری جہاز نے 15 ستمبر 2026 کو پاک بحریہ کی مشق سی اسپارک 26 کے دوران پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، جسے پاکستان نے بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج
ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد بھارت کے ناظم الامور کو گزشتہ رات دفتر خارجہ طلب کیا گیا، جبکہ نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور بھی بھارتی وزارت خارجہ میں احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
سجاد حیدر نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور مذاکرات و سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔
افغانستان اور علاقائی امن
ترجمان نے کہا کہ قطر اور ترکی نے افغانستان کے ساتھ ثالثی کے لیے مثبت کردار ادا کیا، تاہم دوست ممالک کی کوششوں کے باوجود افغان ردعمل منفی رہا۔ پاکستان افغانستان سے دہشتگردی نہ ہونے کی یقین دہانی چاہتا ہے۔ ان کے مطابق چین سمیت تمام علاقائی ممالک خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے 47 برس بعد امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے عمل کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ سفارتی عمل سے امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ اور علاقائی تعاون
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ یہ جاری تعاون اور دوطرفہ اشتراک کو مزید تقویت دیتا ہے، تاہم معاہدے کے سیکریٹری جنرل کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی تعاون کو سیاحت سمیت دیگر شعبوں تک بڑھانے پر بھی غور ہونا چاہیے۔
کرتارپور اور فلسطین پالیسی
سکھ یاتریوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی سکھ شہریوں کو بھارت جانے سے روکنے کی خبریں درست نہیں۔ ان کے مطابق رواں برس پاکستان نے ویساکھی کے لیے 2800 سے زائد ویزے جاری کیے جبکہ کرتارپور راہداری بھارت کی جانب سے بند ہے۔ پاکستان سکھ یاتریوں کے استقبال کے لیے تیار ہے۔
فلسطین کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے اور لبنان و شام کو درپیش اسرائیلی کارروائیوں پر بھی تشویش رکھتا ہے۔





