پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے دوسرے ماہ میں داخل

کراچی: پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے دوسرے ماہ میں داخل ہوگئے ہیں اور لاہور، پشاور، کراچی سمیت ملک کے 40 مقامات پر احتجاج جاری ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک بار پھر حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

20 ستمبر اسلام آباد مارچ کا اعلان

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی تیاریاں مکمل ہیں، جبکہ مارچ کے طریقہ کار کا اعلان 17 ستمبر کو کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیٹرولیم ریلیف پیکج جماعت اسلامی نے مسترد کردیا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج ہوگا، جبکہ اس سے قبل مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں۔

دھرنے ختم کرنے سے انکار

حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ حکومت اگر پیٹرولیم لیوی کم کرتی ہے تو اس کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نہ دھرنے ختم کرے گی اور نہ اسلام آباد مارچ کا فیصلہ واپس لے گی۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مارچ روکنے کا واحد راستہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس مؤقف پر بھی تنقید کی کہ لیوی ختم ہونے سے سرکاری آمدن میں کمی آئے گی۔

ایف بی آر میں اصلاحات کا مطالبہ

حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت کو ایف بی آر میں مبینہ کرپشن روکنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے سود کی شرح میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور حکومت کو مزید وسائل حاصل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے حکومتی ریلیف پیکج کے اخراجات اور تعلیمی صورتحال پر بھی تنقید کی۔