مکہ دفاعی اتحاد کا ہنگامی اجلاس، سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ

ریاض (عوام ویب ڈیسک) مکہ دفاعی اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب کے دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی اور سعودی عرب میں فوجی دستے فوری تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ اتحاد برائے دفاع کی اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا۔رواں سال 7 اگست کو مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے میں کہا گیا تھا کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ریاض میں پیر کو ہونے والے اجلاس میں مکہ اتحاد برائے دفاع کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی ترقی کے سلسلے میں اہم فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو 3 سال کے لیے اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کر دیا۔مشترکہ اعلامیے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش سمیت سعودی عرب کے شہروں، شہری اور اقتصادی تنصیبات پر جاری حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ فریقین نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو واضح طور پر مسترد کردیا۔کیا اس خبر کا تھمب نیل بھی بنا دوں؟





