انتظامی نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کا مطلب اسے ختم کرنا نہیں، اصلاحات ضروری ہیں: محسن نقوی

لاہور: وفاقی وزیر محسن نقوی نے کہا ہے کہ انتظامی نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے سے مراد کسی سیاسی جماعت، حکومت یا موجودہ سیاسی بندوبست میں تبدیلی نہیں بلکہ گزشتہ 79 برس سے جاری انتظامی نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ہے۔
یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی ہیں، بجٹ آتے ہیں اور منصوبے بنتے رہتے ہیں، تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ عوام کو کتنی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 79 برس گزرنے کے باوجود پاکستان میں تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف سمیت بنیادی سہولیات کے حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔ سرکاری تعلیمی نظام کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات پانچویں جماعت کا طالب علم بھی عام جملے پڑھنے کے قابل نہیں ہوتا۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ انتظامی نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کا مطلب اسے توڑنا یا ختم کرنا نہیں بلکہ موجودہ نظام میں جو چیزیں غلط ہیں انہیں درست کرنا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک اپنا اثر کھو چکا ہے اور اس کے مطلوبہ نتائج عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے، اس لیے انتظامی نظام میں بہتری کے لیے سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا فیصلہ کسی ایک فرد، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو انہیں بنایا جائے اور اگر عوام اس کے حق میں نہیں تو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور ملک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، اس لیے انتظامی ڈھانچے کو بھی موجودہ حالات کے مطابق ازسرنو منظم کرنے پر غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک خاندان بڑھتا ہے تو وہ ایک گھر سے دو، پھر چار اور مزید گھروں میں منتقل ہوتا ہے، لیکن انتظامی یونٹس میں اضافے کی بات آتے ہی اعتراضات شروع ہوجاتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل کی مخالفت کی کئی سیاسی وجوہات ہوسکتی ہیں، تاہم اصل مسئلہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی اقدام نہیں کرے گی اور انتظامی اصلاحات سمیت تمام فیصلے آئین کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں گے۔
محسن نقوی کے مطابق آئین کے اندر رہتے ہوئے ریاست کے پاس انتظامی نظام میں بہتری اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔





