وزیر داخلہ محسن نقوی کا بڑا انکشاف، کے پی حکومت آخری مرحلے میں وعدوں سے مکر گئی

کوئٹہ / اسلام آباد – وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت مذاکرات کے آخری مرحلے میں وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی، جس کے باعث حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت 72 گھنٹوں میں تحریری معاہدہ اور عملدرآمد کا منصوبہ دینے پر رضامند ہوئی تھی۔ پولیس ایکٹ 2026 پر سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں نظرثانی پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔وزیر داخلہ کے مطابق کے پی حکومت نے صوبے میں دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے نہ دینے، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مذمت، افغان مہاجرین کے حوالے سے قومی پالیسی کی مکمل حمایت، افغان مہاجرین کے کیمپوں کے خاتمے اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران انسداد دہشت گردی اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کرنے، مسلح افواج کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون بڑھانے اور سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسداد دہشت گردی فیصلوں پر بھی اتفاق ہوا تھا۔ کے پی حکومت نے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی بھی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم آخری مرحلے میں وہ ان تمام وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صوبہ اس وقت جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے، اس لیے سکیورٹی کو سیاسی نہیں بنانا چاہیے۔مذاکرات ناکام:
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گزشتہ روز شام 4 بجے شروع ہونے والے مذاکرات رات تقریباً ڈھائی بجے تک جاری رہے مگر مسودے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ دونوں فریقین نے ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔مذاکرات ختم ہونے کے بعد وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں فورسز کا ساتھ دینے اور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی سے انکاری ہے، اسی وجہ سے معاہدہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔لانگ مارچ کا اعلان:
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے۔ان کے مطابق دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہری لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے اور رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پڑاؤ کرے گا۔