ایرانی صدر پزشکیان اور وزیر خارجہ کو جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکی ویزے مل گئے

واشنگٹن (عوام ویب ڈیسک): امریکا نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت ایران کے بنیادی وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے جاری کر دیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران کے بنیادی وفد اور ضروری اسٹاف کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق وفد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور ایرانی حکام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کر سکیں گے، تاہم ایرانی وفد کو سفری پابندیوں کا سامنا ہوگا اور بعض اشیا کی خریداری پر بھی پابندیاں عائد رہیں گی۔
امریکی حکام کے مطابق اس سال ایران کا وفد گزشتہ سال کے مقابلے میں محدود اور کم تعداد میں ہوگا۔ ایرانی وفد کے ارکان کو نیویارک میں نقل و حرکت کے حوالے سے پابندیوں کے علاوہ لگژری اور بعض دیگر اشیا کی خریداری سے متعلق پابندیوں کا بھی سامنا ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے۔ اس کے باوجود ایرانی قیادت کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطینی حکام کو رواں سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب محمود عباس کو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کے لیے امریکی ویزا نہیں دیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی حکام کے ویزوں سے متعلق فیصلے کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں، جن میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں کارروائی اور واشنگٹن کے مطابق امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے الزامات شامل ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے فلسطینی-امریکی تعلقات اور خطے میں امن کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نیویارک میں جاری ہے، جبکہ اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران دنیا بھر سے سربراہان مملکت اور حکومتیں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں۔