فیول ریلیف اسکیم میں 20 سال پرانی موٹر سائیکلیں شامل

فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ وسیع، 20 سال پرانی موٹر سائیکلیں بھی شامل
وزیراعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 20 سال پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کو بھی اسکیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی ہدایات کے بعد ایسے افراد بھی حکومتی فیول ریلیف حاصل کرنے کے اہل ہوں گے جو پہلے گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ کی وجہ سے اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔
پرانی موٹر سائیکلیں اور رکشے بھی اہل ہوں گے
وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق 20 سال پرانی موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی اب فیول ریلیف اسکیم میں شامل کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ یکم جنوری کے بعد رجسٹرڈ ہونے والی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو بھی رجسٹریشن کے لیے اہل قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کو نئی کیٹیگریز شامل کرنے کے لیے ضروری انتظامی اور تکنیکی اقدامات فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے موجود سہولت
فیول ریلیف اسکیم میں پہلے ہی 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو شامل کیا گیا ہے، تاہم موجودہ قواعد کے مطابق گاڑی کا یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ ہونا ضروری تھا۔
اس شرط کے باعث اس تاریخ سے پہلے رجسٹرڈ گاڑیوں کے مالکان کو اسکیم میں ریلیف نہیں مل رہا تھا اور گاڑی پرانی ہونے کی بنیاد پر درخواست مسترد ہوجاتی تھی۔ نئی توسیع سے خاص طور پر پرانی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے صارفین کے لیے اسکیم کے دائرے میں اضافہ ہوگا۔
فی لیٹر 100 روپے ریلیف
حکومت کی جانب سے شروع کی گئی فیول ریلیف اسکیم کا بنیادی مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنا اور کم آمدن والے شہریوں کو براہ راست مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔
اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ریلیف کا اعلان کیا گیا تھا۔
رجسٹریشن کا طریقہ کار
اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل ایس ایم ایس اور آن لائن نظام کے ذریعے شروع کیا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے شہریوں کو رجسٹریشن میں سہولت دینے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے گئے۔
20 سال پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو شامل کرنے کے فیصلے کے بعد مزید شہری اس پروگرام کے دائرے میں آسکیں گے اور پیٹرول اخراجات میں حکومتی ریلیف سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔





