ریاض میں بڑی بیٹھک، 3 اسلامی ممالک کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار

ریاض(عوام ویب ڈیسک): خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریق ممالک نے سعودی عرب میں سر جوڑ لیے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے چیفس آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا اہم اجلاس ریاض میں ہوا۔
اجلاس کا مرکزی نکتہ سعودی عرب کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔ عسکری قیادت نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے اور سعودی عرب کے سویلین اور معاشی انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔
اجلاس میں شریک جرنیلوں نے سعودی مسلح افواج کی جانب سے مملکت کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ جس میں:
1. انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو جدید بنانا
2. تینوں ممالک کی افواج میں رابطہ کاری بہتر کرنا
3. دفاعی صلاحیتوں کو یکجا (Integrate) کرنا شامل ہے۔
عسکری حکام نے کہا کہ اس تعاون سے اجتماعی دفاعی نظام ناقابل تسخیر ہو جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ یہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ تینوں ممالک اپنے معاہدے کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ اسے فوری اور عملی فوجی تعاون میں بدلنا چاہتے ہیں۔ تمام شرکاء نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے لیے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کو دہرایا۔





