پگڑی یا دستار: سات بل، سات وعدے اور اصل کردار

پگڑی یا دستار: سات بل، سات وعدے اور اصل کردار
تحریر : ہمایوں خان الکوزئی ایڈوکیٹ
پگڑی محض 7 گز کپڑا نہیں، بلکہ 7 عہد اور وعدے ہیں۔ جیسے ہندو مذہب میں شادی کے دوران 7 پھیرے ہوتے ہیں اور ہر پھیرے میں ایک وعدہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے کرتے ہیں، ویسے ہی بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی پگڑی کے ہر بل میں ایک اصول اور ایک وعدہ پوشیدہ ہوتا ہے۔
آج ہم نے اسے محض فیشن اور ‘کلچر ڈے’ کی ایک ٹوپی بنا دیا ہے۔ آج ہر کوئی کلچر ڈے پر پگڑی باندھ لیتا ہے، ٹک ٹاک ویڈیوز بنتی ہیں اور تصاویر اپ لوڈ کی جاتی ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اس پگڑی کے 7 بل کیوں ہوتے ہیں؟ یہ صرف کپڑا نہیں، ہمارے بزرگوں کی دستار اور ان کی عظیم ذمہ داری تھی۔
پگڑی کے 7 بل اور 7 اصول — جو ہمارے بزرگوں کا ورثہ تھے
ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ پگڑی کا ہر پیچ ایک قسم اور ایک پکا وعدہ ہے۔ یہ رواج صرف بلوچ یا پشتون تک محدود نہیں ہے؛ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، خواہ وہ ہندو راجہ ہو، عرب کا شیخ ہو، سندھ کا وڈیرہ ہو، پنجاب کا چوہدری ہو یا پختونخوا اور بلوچستان کا خان، سردار اور نواب ہو—ہر قوم میں پگڑی اسی شخص کو پہنائی جاتی تھی جو اس کا اہل اور سردار بننے کے لائق ہوتا تھا۔ یہ کوئی فیشن نہیں بلکہ ایک تاج تھا۔
باپ جب اپنی زندگی کے بعد کسی کو اپنا جانشین بنانا چاہتا تھا، تو وہ اپنے تمام بیٹوں میں یہ سات خوبیاں پرکھتا تھا۔ ہمارے سامنے ایسی کتنی ہی مثالیں موجود ہیں کہ باپ نے پگڑی اپنے بیٹے کو پہنانے کے بجائے براہِ راست اپنے پوتے کو پہنائی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مطلوبہ خوبیاں بیٹے میں نہیں، بلکہ پوتے میں موجود تھیں۔ پگڑی ہمیشہ کردار کی بنیاد پر ملتی تھی۔
وہ سات بل کون سے تھے؟
* پہلا بل (غیرت و بہادری): پگڑی والا میدانِ جنگ میں کبھی پیٹھ نہیں دکھائے گا۔ وہ اپنی مٹی، اپنی قوم اور اپنے ہر قول کے ساتھ پکا وفادار رہے گا اور برے وقت میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑے گا۔
* دوسرا بل (قول کی پختگی): اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیوی، بہن، ماں اور قوم کی ہر بیٹی کی عزت کا محافظ ہوتا ہے۔ جس کے سر پر پگڑی ہو، اس کے ہوتے ہوئے کسی کمزور پر ظلم نہیں ہو سکتا۔
* تیسرا بل (مہمان نوازی اور انصاف): اس کا دروازہ اور دسترخوان ہر بھوکے کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ اس کا فیصلہ ذاتی تعلق یا رشتے دیکھ کر نہیں بلکہ حق کی بنیاد پر ہوتا ہے، چاہے اس کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قصوروار ہو۔
* چوتھا بل (سخاوت): مال اس کا ذاتی نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھا جاتا ہے، جس میں غریب کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اس کا دروازہ سخاوت کے لیے کبھی بند نہیں ہوتا، وہ مال جمع کرنے کے بجائے بانٹنے پر یقین رکھتا ہے۔
پانچواں بل (حق پرستی اور اٹل فیصلہ): اپنا ہو یا پرایا، فیصلہ ہمیشہ حق پر کرے گا۔ اس کی زبان پرانی روایت کے مطابق پتھر پر لکیر ہوتی ہے، ایک بار بات کہہ دی تو چاہے جان چلی جائے پر زبان سے نہیں پھرے گا۔
چھٹا بل (غریب و کمزور کی حفاظت اور بردباری): پگڑی والے کا مقصد کمزور کو دبانا نہیں بلکہ اسے سہارا دینا ہے۔ ایک سچے سردار کو جلدی غصہ نہیں آتا؛ وہ چھوٹوں کی غلطیوں اور بدتمیزی کو بھی بڑے پن سے برداشت کرتا ہے اور معاف کر دیتا ہے۔
ساتواں بل (عزت اور پردہ): وہ اپنی اور دوسروں کی عزت کا نڈر محافظ ہوتا ہے اور میدان میں ہمیشہ سب سے آگے رہتا ہے۔
آج کا المیہ
آج ذرا گہرائی میں سوچیں؛ کیا ہم میں یہ ساتوں خوبیاں موجود ہیں؟
ہم نے پگڑی تو باندھ لی ہے، لیکن وفاداری چھوڑ دی ہے۔ ہم نے سر پر دستار تو سجا لی ہے، لیکن ہمارے فیصلے انصاف پر نہیں بلکہ رشوت اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ ہم نے سر پر پگڑی رکھ تو لی ہے، لیکن ہمارے دسترخوان غریبوں کے لیے بند ہو چکے ہیں۔ پگڑی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ محض نام کے سردار بن جائیں، بلکہ پگڑی کا اصل مطلب یہ ہے کہ اب آپ پر سات بڑی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔
اگر یہ سات خوبیاں انسان کے اندر موجود نہ ہوں، تو سر پر پانچ گز کا کپڑا باندھنے سے کوئی بھی خان، نواب یا سردار نہیں بن جاتا، بلکہ وہ محض ایک اداکار کہلاتا ہے۔
آج ہم میں سے (مجھ سمیت) جس نے بھی پگڑی باندھی ہے، اسے خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
کیا ہم واقعی بہادر ہیں یا صرف سوشل میڈیا کی حد تک شیر ہیں؟
کیا ہمارا قول پکا ہے یا ہم معمولی مفاد کے لیے وعدہ کر کے مکر جاتے ہیں؟
کیا ہمارا دسترخوان غریب کے لیے کھلا ہے یا ہم ضرورت مند کو دیکھ کر دروازہ بند کر لیتے ہیں؟
کیا ہم غریب کی مدد کرتے ہیں یا اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں؟
خلاصہ
یہ بات درست ہے کہ آج کے دور کے کچھ نوجوان محض تفریح یا ٹک ٹاک کے لیے ایسا کرتے ہیں، لیکن میرا اصل پیغام اور سوال ہمیشہ ان لوگوں سے ہے جو باقاعدہ پگڑی باندھنے کے دعویدار ہیں۔ پرانے وقتوں میں پگڑی ہر کسی کے سر پر نہیں سجتی تھی؛ جب کوئی انسان ان سات اصولوں پر پورا اترتا تھا، تب جا کر اسے پگڑی پہننے کا حق ملتا تھا کیونکہ یہ ایک تاج کی حیثیت رکھتی تھی۔
آج ہم نے پگڑی کو محض ایک فیشن بنا دیا ہے جو بازار سے چند روپوں میں مل جاتی ہے، مگر اس کے پیچھے کارفرما کردار بازار میں نہیں خریدا جا سکتا۔ اگر ہمیں اپنے کلچر کو زندہ رکھنا ہے تو اسے لباس سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے زندہ رکھنا ہوگا۔
ہم نے پگڑی تو باندھ لی ہے مگر وفاداری چھوڑ دی ہے، فیصلے انصاف کے بجائے رشوت پر ہونے لگے ہیں، اور دسترخوان غریب کے لیے بند ہو چکے ہیں۔ یاد رکھیے! پگڑی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ خان، نواب، سردار یا ملک بن گئے ہیں، بلکہ پگڑی کا اصل مطلب یہ ہے کہ اب آپ کے کاندھوں پر مزید سات بڑے وعدوں اور بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ آ چکا ہے۔






