کوئٹہ کا پانی: قدرتی بحران یا ہماری اپنی کوتاہیاں؟ مکمل تجزیہ

کوئٹہ کا پانی: قدرتی آفت یا ہماری اپنی کوتاہی؟
تحریر: ہمایوں خان الکوزئی ایڈووکیٹ
کوئٹہ کا سب سے اہم اور گمبھیر مسئلہ آج پانی ہے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح روز بروز نیچے جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بارشیں کم ہونا ایک قدرتی معاملہ ہے اور ہم قدرت سے مقابلہ نہیں کر سکتے، لیکن جو ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں، ان پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔
انگریز دور کا کامیاب نظام
پرانے کوئٹہ میں، انگریز دور میں اور اس کے بعد بھی، پانی کا ایک بہترین نظام موجود تھا۔ جہاں بھی ٹیوب ویل لگایا جاتا تھا، اس کے ساتھ ایک بڑا ٹینک تعمیر کیا جاتا تھا جو تقریباً تین منزلہ عمارت جتنا اونچا ہوتا تھا۔ ٹیوب ویل سے پانی پہلے اس اونچے ٹینک میں بھرا جاتا اور پھر وہاں سے پورے علاقے کو سپلائی کیا جاتا تھا۔ چونکہ ٹینک اونچائی پر ہوتا تھا، اس لیے پانی بغیر کسی مشین یا ڈنکی پمپ کے، اپنے ہی قدرتی دباؤ (Gravity Pressure) سے سیدھا لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر بنی ٹینکیوں تک پہنچ جاتا تھا۔ یہ ایک انتہائی سستا، پائیدار اور موثر نظام تھا۔
پھر نیا نظام آیا
پشتو میں ایک کہاوت ہے:
”بابا ملک سو کلہی سپیرہ سو“
پھر ہمارے مفاد پرست عناصر اور قبضہ مافیا نے کمیشن اور ذاتی فائدے کے لیے اس پرانے اور کامیاب نظام کو ختم کر دیا۔ اس کی جگہ نیا نظام لایا گیا جس کے تحت زمین کے اندر 4 انچ اور 6 انچ کے پائپ ڈال دیے گئے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ کرپشن کا سب سے محفوظ طریقہ زمین کے اندر پیسے خرچ کرنا ہوتا ہے، جس کا کوئی حساب کتاب کرنا مشکل ہو۔
اب ہوتا یہ ہے کہ ٹیوب ویل کو ایک مقررہ وقت کے لیے چلا دیا جاتا ہے۔ پانی نیچے پائپوں میں دوڑتا تو ہے (وہ بھی پائپ کی نچلی سطح پر)، لیکن پائپوں میں مطلوبہ پریشر نہیں ہوتا۔ چونکہ گھروں کے پانی کے کنکشن اوپر کی طرف لگے ہیں، اس لیے پانی گھروں تک پہنچتا ہی نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہزاروں گیلن پانی یونہی ضائع ہو جاتا ہے۔
سرکاری سستی اور پرائیویٹ تیزی
دوسرا بڑا مسئلہ نظام کی دیکھ بھال اور غفلت کا ہے۔ جب کوئی سرکاری ٹیوب ویل خراب ہوتا ہے تو لائن مین ایس ڈی او (SDO) کو رپورٹ کرتا ہے، ایس ڈی او ایکسین (XEN) کو، ایکسین وزیر کو… یوں فائلوں کا یہ چکر چلتا رہتا ہے اور اس طویل عمل میں 15 سے 20 دن ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد کہیں جا کر ٹھیکیدار آتا ہے اور اس میں بھی کمیشن کا چکر شروع ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس، جسے ہم “ٹینکر مافیا” کہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے آج کوئٹہ شہر کے آدھے سے زیادہ بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ اگر وہ پانی سپلائی نہ کریں تو سرکاری نظام اکیلے شہر کو پانی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ البتہ، ٹینکر مافیا کے ریٹس اور کم عمر ڈرائیوروں پر سختی سے چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔ ان کا فائدہ یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی ٹیوب ویل خراب ہو جائے تو اسی دن مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے اور وہ فوراً ٹھیک ہو جاتا ہے، جب کہ ہمارا سرکاری ٹیوب ویل مہینوں خراب پڑا رہتا ہے۔
کیا صرف حکومت ذمہ دار ہے، عوام کا کوئی قصور نہیں؟
یہاں ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، ایک ہاتھ سے نہیں۔ جب واسا (WASA) کسی علاقے میں اپنا ٹیوب ویل چلاتا ہے اور پانی آتا ہے (خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو)، تو وہاں بھی عوام کی ناانصافی کی وجہ سے پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں ہو पाती۔
جس علاقے میں بجلی نہ ہو اور ٹیوب ویل والے علاقے میں بجلی ہو، وہاں اصولاً پانی سب کو برابر ملنا چاہیے، مگر ہم نے کیا کیا ہے؟ ہم نے گھروں میں ڈبل موٹریں اور ہیوی سکشن پمپ لگائے ہوئے ہیں۔ جس غریب کے گھر میں چھوٹی موٹر یا عام نلکا ہے، اسے تو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملتا، جبکہ جس نے بڑی سکشن والی ڈبل موٹر لگائی ہے، وہ لائن کا سارا پانی کھینچ لیتا ہے۔ اگر دس منٹ پانی آئے بھی، تو وہ بھی آپس میں برابر تقسیم نہیں ہوتا۔
یہی حال گیس کا ہے۔ جب گیس کا پریشر کم ہوتا ہے تو لوگوں نے گھروں میں گیس کھینچنے والی مشینیں (کمپریسر) لگائی ہوئی ہیں۔ وہ تمام گیس کھینچ لیتی ہیں اور غریب پڑوسی کا چولہا ٹھنڈا کا ٹھنڈا رہ جاتا ہے۔ اور کبھی کبھار ان کمپریسرز کے استعمال کی وجہ سے خدانخواستہ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان بھی ہو جاتا ہے۔
آپ خود آزما کر دیکھ لیں؛ جس دن علاقے کی بجلی چلی جاتی ہے، اس دن نہ کوئی موٹر چلتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسری مشین۔ اس دن گیس بھی پوری آتی ہے اور پانی بھی مناسب طریقے سے تمام گھروں تک پہنچ جاتا ہے۔
تو کیا ہم اس تمام صورتحال میں صرف حکومت کو برا کہیں؟ حکومت میں اہل بھی ہوں گے اور نااہل بھی، لیکن ہم عوام بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم دوسروں کا حق مار کر اپنا گھر تو بھر لیتے ہیں، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ہماری یہ خود غرضی پورے نظام کو تباہ کر رہی ہے۔






