پاکستان اور افغانستان کے مفادات ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑے ہیں: افغان سفیر

اسلام آباد: پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگوں اور سلامتی سے متعلق پیش رفت نے پاکستان اور افغانستان کے مفادات اور حکمت عملی کو ایک دوسرے سے گہرائی سے جوڑ دیا ہے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی موجودہ حقیقتوں کو فرسودہ مفروضوں کے بجائے نئے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سردار احمد شکیب کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان محض دو ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ دونوں کے جغرافیے، عوام، معاشرے اور تاریخ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ اور عوام کی آمدورفت بھی باہمی انحصار کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
افغان سفیر نے کہا کہ آج کا افغانستان سرد جنگ یا 1990 کی دہائی کا افغانستان نہیں اور نہ ہی یہ وہ افغانستان ہے جو 2001 کے بعد غیر ملکی فوجی موجودگی اور بیرونی سیاسی مداخلت کے زیر اثر تھا۔ ان کے مطابق 2021 کے بعد کابل میں ایک نئی سیاسی حقیقت سامنے آئی ہے۔
سردار احمد شکیب نے کہا کہ افغانستان کی سیاسی، سلامتی اور معاشی صورتحال پاکستان کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح پاکستان میں ہونے والی پیش رفت افغانستان پر اثرانداز ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس باہمی انحصار کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتے، تاہم اسے بحران کے بجائے استحکام، سلامتی اور مشترکہ معاشی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا انتخاب ضرور کرسکتے ہیں۔
افغان سفیر نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کو باہمی انحصار کو تنازعات کے بجائے تعاون، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے بروئے کار لانا ہوگا۔